Nasir Kasmi
30
دل دھڑکنے کا سبب یاد ایا
وہ تیری یاد تھی اب یاد ایا
بڑی مشکل سے دن گزارا تھا
پھر تیرا وعدہ شب یاد آیا
رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد ائی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار ا جائے
جیسے سروں میں چلے حولے سے باتیں نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار ا جائے
تو نے دیکھیے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھیاں کبھی وہ سحرنام شبنمی انکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنواا دی ہم نے
کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
بوسا لبوں کو مانگتے ہی منہ بگڑ گیا
کیا اتنی سی میری بات کا تم کو برا لگا
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
اج تم یاد بے حساب ائے
تم نے مانگی ہی نہیں ساتھ دعائیں میرے
ورنہ بات بگڑی ہوئی امین سے بن سکتی تھی
